Sunday, 11 March 2018

"دنیا آخرت کی کھیتی ہے!" حدیث یا مشہور قول؟



جماعت پنجم کی اسلامیات لازمی کی کتاب کے صفحہ نمبر 8 پر "دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔" کو 2017ء میں "نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:" درج کر کے تحریر کیا گیا ۔ جب کہ 2018ء میں یہی قول "جیسا کہ مشہور قول ہے۔" کے ذیل میں چھاپا گیا۔
اس ترمیم سے دین سے شغف رکھنے والے اساتذہ اور علمی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔ ذاتی خیال تو یہی تھا کہ مصنفین نے تحقیق کر کے اس قول کے حدیث ہونے کی صحت کے مشکوک ہونے کے باعث ہی ترمیم کی ہو گی، پچھلے دو تین دن میں مختلف واٹس ایپ گروپوں پر اس حوالے سے منسلکہ تصویر بھجوائی جا رہی تھی۔ ایک تبصرہ اس تبدیلی کو درست قرار دیا گیا۔ کیونکہ یہ حدیث کے طور پر ہی مشہور ہے اس لیے اصلاح کے حوالے سے حوالہ جات درج ذیل ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ امام مناوی رحمۃ اللہ علیہ فیض القدیر شرح جامع الصغیر میں حدیث نمبر 3446 کے ذیل میں درج قول غلطی سے حدیث کے طور پر نبی کریم ﷺ سے منسوب ہو گیا۔

مفتی منیب الرحمٰن صاحب کی تحریر موت ایک اَٹل حقیقت ہے! - میں یہ قول بھی بطور فرمان رسول اکرم ﷺ درج ہے اور اس کے دو حوالہ جات بھی دیے گئے ہیں:
"رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''دنیا آخرت کی کھیتی ہے(یعنی دنیا میں ایمان وعمل کی جو فصل کاشت کروگے ، آخرت میں اسی کا پھل ملے گا)‘‘ (اِحیاء علوم الدین، جلد:4،ص:24،فیض القدیر، جلد:3، ص:392) "

"3446۔ (ثلاث أحلف عليهن) أي على حقيقتهن (لا يجعل الله تعالى من له سهم في الإسلام) من أسهمه الآتية (كمن لا سهم له) منها أي لا يساويه به في الآخرة (وأسهم الإسلام) هي (ثلاثة الصلاة) أي المفروضات الخمس (والصوم) أي صوم رمضان (والزكاة) بسائر أنواعها فهذه واحدة من الثلاث (و) الثانية (لا يتوفى الله عبدا) من عباده (في الدنيا) فيحفظه ويرعاه ويوفقه (فيوليه غيره يوم القيامة) بل كما يتولاه في الدنيا التي  هي مزرعة الآخرة يتولاه في العقبى ولا يكله إلى غيره (و) الثالثة (لا يحب رجل قوما) في الدنيا (إلا جعله الله) أي حشره (معهم) في الآخرة فمن أحب أهل الخير كان معهم ومن أحب أهل الشر كان معهم والمرء مع من أحب (والرابعة لو حلفت عليها) كما حلفت على أولئك الثلاث (رجوت) أي أملت (أن لا آثم) أي لا يلحقني إثم بسبب حلفي عليها وهي (لا يستر الله عبدا في الدنيا إلا ستره يوم القيامة) في رواية الحاكم في الآخرة بدل يوم القيامة ثم قال فقال عمر"
موسوعة أطراف الحديث النبوي الشريف - ج 5 - د - ق - IslamKotob - Google Books میں "الدنیا مزر عة الا خرة " کے حوالہ جات درج ذیل ہیں:
اِتحاف 8:539، عر 4:19، خفا 1:495، تذکرہ 174، اَسرار 199، 345
اصلاحی مواعظ جلد نمبر 4 ، صفحہ 270 - مکتبہ جبریل میں یہ قول حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بیان کے ساتھ "یوں کہتے ہیں" کے الفاظ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے اور اتحاف کا حوالہ دیا گیا ہے۔

گلدستہ تفاسیر میں سورۃ الملک آیت نمبر 25 کے ذیل میں معارف حکیم الاسلام کے حوالے سے لکھا ہے:
فرماتے ہیں"الدنیا مزرعة الاخرة"
تفسیر نمونہ از علامہ مکارم شیرازی میں سورۃ فصلت آیت نمبر 1 تا پانچ کی تفسیرکے آخر میں (دنیا اور آخرت کی کھیتی)  کے عنوان کے تحت درج ذیل بیان منقول ہے:
ہم اس گفتگو کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے اس فرمان کے ساتھ پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہیں:
"من کانت نیتہ الدنیا فرق اللہ علیہ امرہ،و جعل الفقر بین عینیہ،ولم یاٴ یہ من الدنیا الاّ ماکتب لہ،ومن کانت نیتہ الاٰ خرة جمع اللہ شملہ،و جعل غناہ فی قلبہ،واتتہ الدنیا وھی راغمة"
"جس شخص کی نیت دنیا ہو خداس کے امور کود گرگون کر دیتاہے ،فقرو تنگدستی کو اس کی آنکھوں کے سامنے مجسم کردیتاہے اوراس کے پاس،دنیاوی حصے میں سے وہی کچھ آکررہتاہے جو اس کے لیے مقرر کیاگیاہے اورجس کی نیت آخر ت کاجہان ہو خدا کے منتشر امو ر کوبھی یکجا کردیتاہے . اس کے دل کوتونگر ی اور بے نیازی سے معمور کردیتاہے اور دنیا سرجھکائے اس کے پاس آجاتی ہے (کافی، نو رالثقلین جلد ۴ ،ص ۵۶۹ کے مطابق)
یہ جو علما ء کے درمیان مشہور ہے کہ ” الدنیا مزر عة الا خرة “ ( دنیا آخرت کی کھیتی ہے ) درحقیقت مندرجہ بالا فرمان ہی سے حاصل شدہ ہے۔

خلاصۃ البحث:
اب تک دستیاب اور مندرجہ بالا حوالہ جات کی روشنی میں قرآن کریم میں اس مفہوم کی آیات اور احادیث مبارکہ میں بھی اسی مفہوم کی روایات ملتی ہیں۔ لیکن *کیونکہ احادیث مبارکہ میں ان الفاظ کا ہو بہو نقل کیا جانا ثابت نہیں، لہذا "نبی کریم ﷺ کا فرمان" کی جگہ  "مشہور قول کی ترمیم"  درست معلوم ہوتی ہے۔
البتہ کچھ حوالہ جات کی تحقیق باقی ہے جن کو دیکھنے کے بعد ہی حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ احباب سے گزارش ہے کہ اس حوالہ سے اگر کوئی مستند بات معلوم ہو تو آگاہ کریں۔
شکریہ۔