Tuesday, 12 September 2017

شاتم رسول یا کسی اور گستاخی کے مرتکب کو عدالت ہی سزا کیوں دے؟

شاتم رسول کی سزا قتل ہے، اس میں تو کسی قسم کا اختلاف نہیں، لیکن یہ سزا شاتم کو کب دی جائے  اور یہ سزا کون نافذ کرے؟ اس سزا سے پہلے بھی کوئی لائحہ عمل موجود ہے؟ سزا کے فوراً اور عوامی سطح پر نفاذ کا جو رحجان چل نکلا ہے، مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام اس  کو  کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں ؟ نیز علماء کرام اس معاملے میں سزا کے نفاذ میں کس قدر احتیاط کرتے ہیں اور کیوں ؟
ذیل میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کی آراء کے مطالعہ کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے علاوہ ازیں تمام بڑے مکاتب فکر  کے فتاوی کے لنک بھی بھجوائے جا رہے ہیں۔ نیز اس دوران جو بات قرآن و حدیث کے مطالعہ سے احقر کی سمجھ میں آئی، علماء کرام  کے سامنے پیش کرنے اور ان کی منظوری کے بعد وہ آراء بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ اللہ پاک کمی بیشی معاف فرمائیں، مجھے اور سب مسلمانوں کو  دین اسلام کی صحیح سمجھ اور صراط مستقیم پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
شاتم رسول کے سب و شتم اور پھر اس کی سزا کا تعین یقیناً قوانین شریعت کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنجیدہ معاملہ ہے اور یقینی طور پر طلاق کے الفاظ کنایہ سے بھی پیچیدہ کیونکہ اس میں اگر کسی شخص کو غلطی سے کافر و گستاخ سمجھ لیا جائے اور بطور سزا قتل کر دیا جائے جب کہ شریعت میں اس کے اسلام کی قبولیت کے لیے گنجائش نکلتی ہو اور سرے سے وہ حد اس پر جاری ہی نہ کی جا سکتی ہو تو قتل کرنے والے کا اپنا دین و ایمان خطرے میں ہے
علاوہ ازیں  حکومت پاکستان اور نہ ہی نظام تعلیم اس حساس معاملے میں عوام کی آگاہی کے بارے میں کوئی بھی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے اس لیے کسی کے اقوال کو سب و شتم پر محمول کرنے کے حوالے سے مقتدر اہل علم حضرات میں اختلاف رائے کو پیش نظر رکھنا، مجتہدین مطلق اور مجتہد فی المذاہب کی آراء کی روشنی میں فیصلہ کرنا نہ تو عوام کا نہ کسی ایک عالم دین کا. اس میں تو علماء مجتہدین ہی غور و غوض کے بعد سزا کا تعین کر سکتے ہیں اور فیصلہ دے سکتے ہیں. صرف عوام، حفاظ، مفتی علماء جو ایک مذہب کے فتاوی نقل کرتے ہوں، اور پرجوش خطیب حضرات کے بس کا یہ کام نہیں ہے نہ ان کے کرنے کا.
جب چھوٹے چھوٹے دنیاوی و دینی معاملات کے فیصلے کے لیے عدالت اور علماء سے رجوع کیا جائے اور دوسری ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قتل کر دیا جائے وہ بھی مندرجہ بالا تحقیق کے بغیر تو اسے کوئی سلیم العقل شخص جائز قرار نہیں دے گا. نہ ہی سنجیدہ علماء کرام اس کے قائل ہیں.
 حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا مفہوم تو اس معاملے میں یہاں تک بیان کیا جاتا  ہے: "مسلمان جس کلمہ کے اقرار سے اسلام میں داخل ہوتا ہے، خارج ہونے کے لیے بھی اسی طرح کا اقرار درکار ہے۔"
لہذا اگر کبھی کہیں ایسا معاملہ پیش آئے تو اہل ایمان کا فرض بنتا ہے کہ:
1.    پہلے اس شخص کو سمجھائیں اور اگر وہ اس کلمہ کے گستاخی پر محمول ہونے سے جاہل ہونے کے باعث ایسا کر رہا ہے تو اس کی جہالت دور کریں، پھر اس کے رجوع کا انتظار کریں ۔ یا اس کے پاس علماء کے ہاں اس کی کوئی قابل قبول تاویل ہے تو اس کو معلوم کریں۔ اسے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے محتاط رہنے کا کہیں۔
2.    اگر وہ پھر بھی گستاخی پر بضد ہے اور گستاخ معلوم ہوتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔
3.    اگر اس کی گستاخی برقرار رہے اور عدالت اس کو سزا دے ڈالے نیز رجوع کی کوئی صورت نظر نہ آئے  تو اس کی سزا کے نفاذ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں ۔
نوٹ: حکومت پر دباؤ کا کا م وہ احتجاج اور دھرنوں وغیرہ کے ذریعے کر سکتے ہیں البتہ کسی بھی قسم کی فسادی سرگرمی جیسے توڑ پھوڑ، گالی گلوچ، غنڈہ گردی وغیرہ میں شامل  ہو کر اپنا مؤقف کمزور کرنا اور اسلام و مسلمین کے لیے باعث عار و زحمت  بننا کسی صورت زیبا نہیں۔
لہذا سب سے پہلے قانونی چارہ جوئی کی جائے اور اتمام حجت کے لیے تمام قسم کے جائز حربے اختیار حکومت کو عدالتی کاروائی اور بعد ازاں جرم ثابت ہونے اور کوئی گنجائش نہ نکلنے کی صورت میں سزا پر عملدرآمد پر مجبور کیا  جائے۔  اس حد تک کہ حکمرانوں کے پاس حکومت یا سزا کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ رہے۔ موجودہ دور کے واقعات میں ایسا ایک واقعہ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ان سب کوششوں کے بعد بھی میرے مطالعہ کے مطابق اگر عوام میں سے کسی عاشق رسول  کے کسی گستاخ کو قتل کر دینے کی گنجائش ہو سکتی ہےتو اس کی صورت کچھ یوں ہے:
1.    عدالتی کاروائی مکمل ہو، گستاخی ثابت ہو جائے اور حکومت سزا نہ دے بلکہ حفاظت کرے۔
2.    گستاخ کے کسی قسم کے رجوع نہ کرے کا بھی ثبوت موجود نہ ہو۔
3.    گستاخ کی گستاخی بڑھ رہی ہو اور اس کے واضح ثبوت موجود ہوں۔
4.    عدالت کے فیصلہ اور گستاخی کے ان ثبوتوں کے بعد  بھی حکومت سزا کا مطالبہ کرنے والے اہل ایمان پر ظلم کرے
5.    عالم اسلام کے علماء کرام کا اس گستاخ کے قتل پر اجماع ہو جائے۔
اس صورت میں عام مسلمانوں  میں سے کوئی اقدام قتل کر لے اور پھر خود کو عدالت کے سامنے پیش کر دے تو یہ استثنائی صورت ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے طرز عمل سے ثابت بھی ہے۔
 انہوں نے گستاخی کے ملزم کو ہمیشہ پہلے سمجھایا کہ نامعلوم وہ کہیں جہالت میں ایسا عمل نہ کر رہا ہو، پھر اس کی اصلاح خاص مدت تک انتظار بھی کیا۔ جب کوئی صورت اصلاح کی نظر نہ آئی اور معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اقدام قتل بھی کیا اور خود کو کبھی چھپایا نہیں کیونکہ اس صورت میں غازی کا خود کو چھپانا سچی گواہی کو چھپانا اور گستاخوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔
نوٹ:
1.    عدالتی کاروائی پر سب مکاتب فکر کے علماء کا اجماع ہے۔
2.    حضرت عمرؓ کا جو فیصلہ گستاخ کے لیے تھا، وہ قاضی کی حیثیت میں تھا، عام مسلمان کی حیثیت میں نہیں۔
3.    جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام نے غیر مسلم گستاخوں یا منافق گستاخوں کو قتل کیا، انہوں نے یا تو نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق کیا یا پھر قتل کے بعد خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔
4.    اقدام قتل سے پہلے گستاخی کے ملزمان کو سمجھانا بھی روایات میں آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرون ثلاثہ کے مسلمان اس صورت میں گستاخ کو کافی عرصہ سمجھاتے بھی رہے۔ اور بالآخر جب کوئی تجویز  کارگر نہ ہوئی اور رجوع کے کوئی آثار نظر نہ آئے اور حجت تمام ہو گئی تو یہ حتمی اقدام کیا گیا۔
5.    میرے علم کے مطابق ملزم کو سمجھانے کی مدت کم از کم  عورت کی عدت ہے  اور سمجھانے کا عمل مبلغ و مشفق علماء کرام سے ملاقات کے ذریعے انجام پانا چاہیے۔ عوام کو علماء کرام کی اس شخص سے ملاقات کا انتظام ضرور کرنا چاہے۔ علماء کرام کا اس شخص کی طرف جانا اور علماء کرام کی صحبت بذات خود روحانی صحت کے لیے مفید ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام کی کوئی تحریری رائے تا حال احقر نظر سے نہیں گزری۔

ان سب کے باوجود اگر کوئی با ایمان شخص خود پر قابو نہ رکھ پائے اور بالآخر کسی مجرم کو گستاخی کے باعث قتل کر ڈالے تو علماء کرام اس کے بارے میں بد گمانی سے پرہیز کرنا اور اس طرح کے ماورائے عدالت اقدام کی حوصلہ شکنی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں.

ذیل میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے فتاوی اور کچھ تحقیقی مضامین اہل ذوق کے مطالعہ اور اطمینان قلب کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔