Tuesday, 18 July 2017

آئمه اربعه کا قول

ایک ضروری گزارش :
آئمه أربعة کا اکثر پیش کیا جانے والا متفقہ قول جس کا مفہوم ہے : "اگر میری رائے کے مقابلے میں آیت قرآنی یا صحیح حدیث مل جائے تو رائے کو چھوڑ کر صحیح حدیث پر عمل کیا جائے"
علماء مجتہدین کے لیے ہے نہ کہ عوام کے لئے. عوام کا اس قول پر عمل ایمان اور عمل  کے حوالے سے عوام حق میں اسی طرح نقصان کا باعث بن سکتا ہے جس طرح ماہر طبیب سے رجوع کے بغیر کتب طب سے پڑھ کر ادویات کا استعمال جان و مال کے نقصان کا باعث بنتا ہے.
کتب طب کی مارکیٹ میں ارزاں دستیابی کے باوجود  کوئی سلیم الفطرت انسان کبھی ایسی کوشش نہیں کرتا چہ جائیکہ دین و ایمان جیسے نازک ترین معاملے میں یہ طرز عمل اختیار کر کے دنیا و آخرت کی بربادی کا اپنے ہاتھوں سامان مہیا کیا جائے.
علماء مجتہدین اور عوام میں فرق ایسا ہی ہے جیسا کہ بینا اور نابینا میں:
 "وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ (الفاطر، 19)
 اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے."
 جب کہ عوام کے لئے قرآن مجید میں واضح حکم بیان ہوا ہے:
 "فَسۡ‍َٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ (الانبیاء، 7)
  اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو"
 درج بالا حصہ آیت کے ذیل میں مفسرین کرام مسائل کے معاملے میں اصحاب فقہ و فتوی سے رجوع کا حکم بیان کرتے ہیں. 
 اوائل اسلام سے ہی مسلمانوں کا یہی طرز عمل رہا ہے جو عقل و فہم سلیم کے بھی عین مطابق ہے.
صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين کا خلفاء راشدین، ابن عباس، عبدالله بن عمر، عائشہ صدیقہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص و دیگر مجتہدین صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين سے کسب فیض اور مسائل کے حل دریافت کرنا بھی اس عمل کے درست ہونے کے لیے کافی ہے. انہی اصحاب فقہ و فتاوی کے شاگردان رشید میں سے آگے چل کر یہ چار حضرات ہوئے جو آئمه أربعة کے نام سے جانے جاتے ہیں. 
ترتیب کچھ یوں ہے:
 دبستانِ مدینہ جس کی گدی عائشہؓ، زید بن ثابتؓ اور ابن عمرؓ سے ہوتی ہوئی، اور پھر سعید بن مسیبؒ، عروہ بن زبیرؒ اور فقہائے سبعہ وغیرہ سے ہوتی ہوئی، اور آگے زہریؒ اور یحییٰ بن سعیدؒ سے منتقل ہوتی ہوئی مالک بن انسؒ کے پاس آتی ہے۔ دبستانِ مکہ جس کی گدی ابن عباسؓ سے ہوتی ہوئی، اور پھر عکرمہؒ، مجاہدؒ اور عطاءؒ سے ہوتی ہوئی، اور آگے سفیان بن عیینہؒ اور مسلم بن خالدؒ سے منتقل ہوتی ہوئی محمد بن ادریس شافعیؒ کے پاس آتی ہے (شافعیؒ کے دورِ اول کے لحاظ سے)۔ دبستانِ عراق جس کی گدی علیؓ بن ابی طالب و ابن مسعودؓ سے ہوتی ہوئی، اور پھر علقمہ بن قیسؒ اور قاضی شریحؒ سے ہوتی ہوئی، اور آگے ابراہیم نخعیؒ اور پھر حماد بن سلیمانؒ سے منتقل ہوتی ہوئی ابو حنیفہ النعمانؒ کے پاس آتی ہے۔ دبستانِ مصرجس کی گدی عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے ہوتی ہوئی، اور بعد ازاں یزید بن حبیبؒ، اور بعد ازاں لیث بن سعدؒ وغیرہ سے منتقل ہوتی ہوئی محمد بن ادریس شافعیؒ کو ملی (شافعیؒ کے دور دوئم کے لحاظ سے)۔

الله پاک سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائیں. آمین.