Monday, 1 January 2018

نظام کی خرابی درست کرنے کے لیے

جب تک صبر اور جہاد اختیار نہیں کریں گے اور رخصت اختیار کرنا نہیں چھوڑیں گے. تب تک نظام درست نہیں ہو گا اور ظلم ہوتا رہے گا.خرابی کو نظام کا حصہ سمجھنے کی بجائے نظام کی خرابی کو درست کرنے کے لیے صبر کے ساتھ جہاد کریں. الله کریم اصلاح احوال کی توفیق عطا فرمائیں. آمین.

Saturday, 23 September 2017

پاکستان میں مذہب کے نام پر تشدد کی روک تھام کے لیے اصول

ہم کم از کم اس ایجنڈے پر متفق ہیں

  1. ہم تمام پاکستانی شہریوں کے لیے برابر شہری حقوق اور انسانی حقوق کی حمایت کرتے ہیں۔
  2. ہم تکفیرِعام اور اس کی بنیاد پر ایذا رسانی کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تکفیرِ عام کو نفرت انگیز مواد کے طور پر لیا جائے ۔
  3. ہم حکومت پاکستان سے اپیل کرتے ہیں  کہ وہ ہر قسم کے نفرت انگیز مواد کے خلاف فوری اقدامات کرے جو مذہبی تعلق کی بناء پر کسی بھی گروہ کے خلاف تشدد پر اکساتا ہو چاہے وہ مواد تحریری ہو  یا بیانات کی شکل میں ہو۔
  4. ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر یا کسی پر گستاخی کا غلط الزام لگا کر یا کسی بھی بالائے عدالت قتل یا تشدد کے خلاف کاروائی کرے۔ اس ضمن میں ہم قوانین پاکستان میں عموماً اور گستاخی سے متعلق قوانین میں خصوصاً ضروری ترامیم کا مطالبہ کرتے ہیں۔
  5. ہم حکومت اور اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی ایسی مہم کا حصہ نہ بنیں جو عوام کو "گستاخانہ مواد" سے متعلق ڈیجیٹل میڈیا  پر عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔  حکومت اور ریاست کو حقیقتاً  اس مسئلے پر آگاہی پیدا کرنے کی کوششوں کو فروغ دے اور راہنمائی کرے۔
  6. ہم قانون کی حکمرانی اور قانونی کاروائی کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مقامی سطح پر جرم اور تشدد سے نپٹنے کے لیے حکومت  قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دائرہ کار بڑھائے(جو اکثر دوسری سطحوں تک جاتا ہے)۔
  7. ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تعلیمی نصاب میں تمام سطحوں پر ایسی تعلیمات متعارف کروائی جائیں جو رحم اور خدا ترسی، برداشت اور انسانی حقوق کے احترام کا درس دیتی ہوں۔ درسی کتب سے ایسا مواد خارج کر دیا جائے جو معاشرے کے کسی طبقہ یا  کسی گروہ کے خلاف نفرت اور/یا تشددکو ابھارتا  یا اس کی تبلیغ کرتا ہے۔
  8. ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان مذہب کے نام پر کام کرنے والی کالعدم تنظیموں اور افراد کے خلاف کاروائی کرے۔ حکومت کو فرقہ واریت اور مذہبی تشدد میں ملوث کالعدم تنظیموں کی فہرست  کو عام کیا جائے اور ان کے خلاف  قانونی کاروائی کی جائے۔
  9. ہم پاکستانی برقی ذرائع ابلاغ (Electronic Media) کے قوائد و ضوابط کو اس طرح بہتر بنایا جائے کہ وہ ان ریڈیو اور ٹی وی چینلوں کو مؤثر طور پر سزا دیں جو نفرت انگیز مواد پھیلانے میں مصروف ہیں اور/یا مذہب کے نام پر تشدد کو فروغ دینے والے جواب دہ ابلاغی افراد کو وقت دیتے ہیں۔
  10. ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فوراً کالعدم تنظیموں، ان کے حامیوں اور متعلقین کے اثاثہ جات  ضبط کیے جائیں اور ان کے علاقائی اور بین الاقوامی مالی تعاون کے ذرائع  کو مستقل طور پر قطع کرنے کے لیے  تمام وسائل بروئے کار لائے۔ حکومت کو ایسی تنظیموں اور افراد پر  سفر وغیرہ کے حوالے سے پابندیاں عائد کرنی چاہی۔

Tuesday, 12 September 2017

شاتم رسول یا کسی اور گستاخی کے مرتکب کو عدالت ہی سزا کیوں دے؟

شاتم رسول کی سزا قتل ہے، اس میں تو کسی قسم کا اختلاف نہیں، لیکن یہ سزا شاتم کو کب دی جائے  اور یہ سزا کون نافذ کرے؟ اس سزا سے پہلے بھی کوئی لائحہ عمل موجود ہے؟ سزا کے فوراً اور عوامی سطح پر نفاذ کا جو رحجان چل نکلا ہے، مختلف مکاتب فکر کے جید علماء کرام اس  کو  کس نقطہ نظر سے دیکھتے ہیں ؟ نیز علماء کرام اس معاملے میں سزا کے نفاذ میں کس قدر احتیاط کرتے ہیں اور کیوں ؟
ذیل میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کی آراء کے مطالعہ کا جائزہ پیش کیا جا رہا ہے علاوہ ازیں تمام بڑے مکاتب فکر  کے فتاوی کے لنک بھی بھجوائے جا رہے ہیں۔ نیز اس دوران جو بات قرآن و حدیث کے مطالعہ سے احقر کی سمجھ میں آئی، علماء کرام  کے سامنے پیش کرنے اور ان کی منظوری کے بعد وہ آراء بھی پیش کی جا رہی ہیں۔ اللہ پاک کمی بیشی معاف فرمائیں، مجھے اور سب مسلمانوں کو  دین اسلام کی صحیح سمجھ اور صراط مستقیم پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔
شاتم رسول کے سب و شتم اور پھر اس کی سزا کا تعین یقیناً قوانین شریعت کا ایک انتہائی پیچیدہ اور سنجیدہ معاملہ ہے اور یقینی طور پر طلاق کے الفاظ کنایہ سے بھی پیچیدہ کیونکہ اس میں اگر کسی شخص کو غلطی سے کافر و گستاخ سمجھ لیا جائے اور بطور سزا قتل کر دیا جائے جب کہ شریعت میں اس کے اسلام کی قبولیت کے لیے گنجائش نکلتی ہو اور سرے سے وہ حد اس پر جاری ہی نہ کی جا سکتی ہو تو قتل کرنے والے کا اپنا دین و ایمان خطرے میں ہے
علاوہ ازیں  حکومت پاکستان اور نہ ہی نظام تعلیم اس حساس معاملے میں عوام کی آگاہی کے بارے میں کوئی بھی سنجیدہ کوشش کر رہا ہے اس لیے کسی کے اقوال کو سب و شتم پر محمول کرنے کے حوالے سے مقتدر اہل علم حضرات میں اختلاف رائے کو پیش نظر رکھنا، مجتہدین مطلق اور مجتہد فی المذاہب کی آراء کی روشنی میں فیصلہ کرنا نہ تو عوام کا نہ کسی ایک عالم دین کا. اس میں تو علماء مجتہدین ہی غور و غوض کے بعد سزا کا تعین کر سکتے ہیں اور فیصلہ دے سکتے ہیں. صرف عوام، حفاظ، مفتی علماء جو ایک مذہب کے فتاوی نقل کرتے ہوں، اور پرجوش خطیب حضرات کے بس کا یہ کام نہیں ہے نہ ان کے کرنے کا.
جب چھوٹے چھوٹے دنیاوی و دینی معاملات کے فیصلے کے لیے عدالت اور علماء سے رجوع کیا جائے اور دوسری ایک مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر قتل کر دیا جائے وہ بھی مندرجہ بالا تحقیق کے بغیر تو اسے کوئی سلیم العقل شخص جائز قرار نہیں دے گا. نہ ہی سنجیدہ علماء کرام اس کے قائل ہیں.
 حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا مفہوم تو اس معاملے میں یہاں تک بیان کیا جاتا  ہے: "مسلمان جس کلمہ کے اقرار سے اسلام میں داخل ہوتا ہے، خارج ہونے کے لیے بھی اسی طرح کا اقرار درکار ہے۔"
لہذا اگر کبھی کہیں ایسا معاملہ پیش آئے تو اہل ایمان کا فرض بنتا ہے کہ:
1.    پہلے اس شخص کو سمجھائیں اور اگر وہ اس کلمہ کے گستاخی پر محمول ہونے سے جاہل ہونے کے باعث ایسا کر رہا ہے تو اس کی جہالت دور کریں، پھر اس کے رجوع کا انتظار کریں ۔ یا اس کے پاس علماء کے ہاں اس کی کوئی قابل قبول تاویل ہے تو اس کو معلوم کریں۔ اسے توبہ کرنے اور آئندہ کے لیے محتاط رہنے کا کہیں۔
2.    اگر وہ پھر بھی گستاخی پر بضد ہے اور گستاخ معلوم ہوتا ہے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں۔
3.    اگر اس کی گستاخی برقرار رہے اور عدالت اس کو سزا دے ڈالے نیز رجوع کی کوئی صورت نظر نہ آئے  تو اس کی سزا کے نفاذ کے لیے حکومت پر دباؤ ڈالیں ۔
نوٹ: حکومت پر دباؤ کا کا م وہ احتجاج اور دھرنوں وغیرہ کے ذریعے کر سکتے ہیں البتہ کسی بھی قسم کی فسادی سرگرمی جیسے توڑ پھوڑ، گالی گلوچ، غنڈہ گردی وغیرہ میں شامل  ہو کر اپنا مؤقف کمزور کرنا اور اسلام و مسلمین کے لیے باعث عار و زحمت  بننا کسی صورت زیبا نہیں۔
لہذا سب سے پہلے قانونی چارہ جوئی کی جائے اور اتمام حجت کے لیے تمام قسم کے جائز حربے اختیار حکومت کو عدالتی کاروائی اور بعد ازاں جرم ثابت ہونے اور کوئی گنجائش نہ نکلنے کی صورت میں سزا پر عملدرآمد پر مجبور کیا  جائے۔  اس حد تک کہ حکمرانوں کے پاس حکومت یا سزا کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہ رہے۔ موجودہ دور کے واقعات میں ایسا ایک واقعہ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا۔
ان سب کوششوں کے بعد بھی میرے مطالعہ کے مطابق اگر عوام میں سے کسی عاشق رسول  کے کسی گستاخ کو قتل کر دینے کی گنجائش ہو سکتی ہےتو اس کی صورت کچھ یوں ہے:
1.    عدالتی کاروائی مکمل ہو، گستاخی ثابت ہو جائے اور حکومت سزا نہ دے بلکہ حفاظت کرے۔
2.    گستاخ کے کسی قسم کے رجوع نہ کرے کا بھی ثبوت موجود نہ ہو۔
3.    گستاخ کی گستاخی بڑھ رہی ہو اور اس کے واضح ثبوت موجود ہوں۔
4.    عدالت کے فیصلہ اور گستاخی کے ان ثبوتوں کے بعد  بھی حکومت سزا کا مطالبہ کرنے والے اہل ایمان پر ظلم کرے
5.    عالم اسلام کے علماء کرام کا اس گستاخ کے قتل پر اجماع ہو جائے۔
اس صورت میں عام مسلمانوں  میں سے کوئی اقدام قتل کر لے اور پھر خود کو عدالت کے سامنے پیش کر دے تو یہ استثنائی صورت ہے جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے طرز عمل سے ثابت بھی ہے۔
 انہوں نے گستاخی کے ملزم کو ہمیشہ پہلے سمجھایا کہ نامعلوم وہ کہیں جہالت میں ایسا عمل نہ کر رہا ہو، پھر اس کی اصلاح خاص مدت تک انتظار بھی کیا۔ جب کوئی صورت اصلاح کی نظر نہ آئی اور معاملہ حد سے بڑھ گیا تو اقدام قتل بھی کیا اور خود کو کبھی چھپایا نہیں کیونکہ اس صورت میں غازی کا خود کو چھپانا سچی گواہی کو چھپانا اور گستاخوں کے ہاتھ مضبوط کرنا ہے۔
نوٹ:
1.    عدالتی کاروائی پر سب مکاتب فکر کے علماء کا اجماع ہے۔
2.    حضرت عمرؓ کا جو فیصلہ گستاخ کے لیے تھا، وہ قاضی کی حیثیت میں تھا، عام مسلمان کی حیثیت میں نہیں۔
3.    جن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام نے غیر مسلم گستاخوں یا منافق گستاخوں کو قتل کیا، انہوں نے یا تو نبی کریم ﷺ کے حکم کے مطابق کیا یا پھر قتل کے بعد خود کو عدالت کے سامنے پیش کیا۔
4.    اقدام قتل سے پہلے گستاخی کے ملزمان کو سمجھانا بھی روایات میں آتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرون ثلاثہ کے مسلمان اس صورت میں گستاخ کو کافی عرصہ سمجھاتے بھی رہے۔ اور بالآخر جب کوئی تجویز  کارگر نہ ہوئی اور رجوع کے کوئی آثار نظر نہ آئے اور حجت تمام ہو گئی تو یہ حتمی اقدام کیا گیا۔
5.    میرے علم کے مطابق ملزم کو سمجھانے کی مدت کم از کم  عورت کی عدت ہے  اور سمجھانے کا عمل مبلغ و مشفق علماء کرام سے ملاقات کے ذریعے انجام پانا چاہیے۔ عوام کو علماء کرام کی اس شخص سے ملاقات کا انتظام ضرور کرنا چاہے۔ علماء کرام کا اس شخص کی طرف جانا اور علماء کرام کی صحبت بذات خود روحانی صحت کے لیے مفید ہے۔ اس سلسلے میں علماء کرام کی کوئی تحریری رائے تا حال احقر نظر سے نہیں گزری۔

ان سب کے باوجود اگر کوئی با ایمان شخص خود پر قابو نہ رکھ پائے اور بالآخر کسی مجرم کو گستاخی کے باعث قتل کر ڈالے تو علماء کرام اس کے بارے میں بد گمانی سے پرہیز کرنا اور اس طرح کے ماورائے عدالت اقدام کی حوصلہ شکنی کرنے کی ترغیب دیتے ہیں.

ذیل میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے فتاوی اور کچھ تحقیقی مضامین اہل ذوق کے مطالعہ اور اطمینان قلب کے لیے پیش کیے جا رہے ہیں۔

Monday, 4 September 2017

Pakistan: "Minimum Common Agenda" to "Stop Violance" in the name of "Religion"

We agree on the following minimum agenda:

  1. We stand for human rights and equal citizenship rights for all Pakistanis.
  2. We oppose Takfir (declaring anyone a non-Muslim/Kafir) and subjecting anyone to persecution on that basis. We demand that takfir be treated and tried as hate-speech. 
  3. We demand that the Government of Pakistan take immediate action against all forms of hate speech which may be defined as words, spoken or written, that incite violence and hatred against any community based on their religious affiliations.
  4. We demand that the Government of Pakistan act against any extra-judicial killings or violence in the name of religion and false accusations of “blasphemy”. We demand the reform of Pakistan’s laws specifically related to the “blasphemy laws”.
  5. We demand that the Government and institutions of the state not be party to campaigns that mislead the public about ‘blasphemous content’ on digital media. The Government and state institutions should in fact lead efforts to raise awareness about these issues.
  6. We support the rule of law and due process. We demand that the Government enhance the capacity of law enforcing agencies to deal with crime and violence at the local level (that often feed into other levels). 
  7. We demand that educational curriculum at all levels should include teachings that promote compassion, tolerance and respect for human rights. Text books should be revised to expunge any material that incites or preaches hatred and/or violence against any community or section of society.
  8. We demand that the Government of Pakistan act against banned outfits and individuals operating in the name of religion. The Government must also publicize the list of banned outfits engaged in sectarian and religious violence and proceed legally against them.
  9. We demand that Pakistani electronic media regulation be improved to effectively penalise radio and television channels that give airtime to those who engage in hate speech and hold accountable media persons who openly incite violence in the name of religion.
  10. We demand that the Government immediately freeze assets of banned outfits and of those who are associated with them and take all measures to permanently cut off their sources of domestic and international financing. The Government should impose sanctions, including travel restrictions, on such outfits and individuals.


Sign the Petition:
Petition · Pakistan: Minimum Common Agenda Against Violence in Name of Religion · Change.org
https://www.change.org/p/pakistan-minimum-common-agenda-against-violence-in-name-of-religion

Sunday, 3 September 2017

آزمائشیں اور غم، صحیح طرز عمل

غم الله کی مشیت پر راضی نہ ہونے کا نام ہے.

رنج و تکالیف والے حالات الله پاک کی خصوصی آزمائش ہیں جو انسان کو اس ذات کریمی کا خصوصی قرب عطا فرماتی ہے. ان کی شدت کو غم کرنے کی بجائے صبر اور نماز کے ذریعے الله پاک کی مدد حاصل کر کے فائدہ مند انداز میں ختم کیا جا سکتا ہے.
بقول شاعر

~رنج کا خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج،
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں.

انسان بہر حال کمزور ہے، . الله پاک مغفرت اور عافیت عطا فرمائیں. آمین.

Tuesday, 18 July 2017

آئمه اربعه کا قول

ایک ضروری گزارش :
آئمه أربعة کا اکثر پیش کیا جانے والا متفقہ قول جس کا مفہوم ہے : "اگر میری رائے کے مقابلے میں آیت قرآنی یا صحیح حدیث مل جائے تو رائے کو چھوڑ کر صحیح حدیث پر عمل کیا جائے"
علماء مجتہدین کے لیے ہے نہ کہ عوام کے لئے. عوام کا اس قول پر عمل ایمان اور عمل  کے حوالے سے عوام حق میں اسی طرح نقصان کا باعث بن سکتا ہے جس طرح ماہر طبیب سے رجوع کے بغیر کتب طب سے پڑھ کر ادویات کا استعمال جان و مال کے نقصان کا باعث بنتا ہے.
کتب طب کی مارکیٹ میں ارزاں دستیابی کے باوجود  کوئی سلیم الفطرت انسان کبھی ایسی کوشش نہیں کرتا چہ جائیکہ دین و ایمان جیسے نازک ترین معاملے میں یہ طرز عمل اختیار کر کے دنیا و آخرت کی بربادی کا اپنے ہاتھوں سامان مہیا کیا جائے.
علماء مجتہدین اور عوام میں فرق ایسا ہی ہے جیسا کہ بینا اور نابینا میں:
 "وَمَا يَسْتَوِى ٱلْأَعْمَىٰ وَٱلْبَصِيرُ (الفاطر، 19)
 اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے."
 جب کہ عوام کے لئے قرآن مجید میں واضح حکم بیان ہوا ہے:
 "فَسۡ‍َٔلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلذِّكۡرِ إِن كُنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ (الانبیاء، 7)
  اگر تم نہیں جانتے تو جو یاد رکھتے ہیں ان سے پوچھ لو"
 درج بالا حصہ آیت کے ذیل میں مفسرین کرام مسائل کے معاملے میں اصحاب فقہ و فتوی سے رجوع کا حکم بیان کرتے ہیں. 
 اوائل اسلام سے ہی مسلمانوں کا یہی طرز عمل رہا ہے جو عقل و فہم سلیم کے بھی عین مطابق ہے.
صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين کا خلفاء راشدین، ابن عباس، عبدالله بن عمر، عائشہ صدیقہ، عبداللہ بن عمرو بن العاص و دیگر مجتہدین صحابہ کرام رضوان الله عليهم أجمعين سے کسب فیض اور مسائل کے حل دریافت کرنا بھی اس عمل کے درست ہونے کے لیے کافی ہے. انہی اصحاب فقہ و فتاوی کے شاگردان رشید میں سے آگے چل کر یہ چار حضرات ہوئے جو آئمه أربعة کے نام سے جانے جاتے ہیں. 
ترتیب کچھ یوں ہے:
 دبستانِ مدینہ جس کی گدی عائشہؓ، زید بن ثابتؓ اور ابن عمرؓ سے ہوتی ہوئی، اور پھر سعید بن مسیبؒ، عروہ بن زبیرؒ اور فقہائے سبعہ وغیرہ سے ہوتی ہوئی، اور آگے زہریؒ اور یحییٰ بن سعیدؒ سے منتقل ہوتی ہوئی مالک بن انسؒ کے پاس آتی ہے۔ دبستانِ مکہ جس کی گدی ابن عباسؓ سے ہوتی ہوئی، اور پھر عکرمہؒ، مجاہدؒ اور عطاءؒ سے ہوتی ہوئی، اور آگے سفیان بن عیینہؒ اور مسلم بن خالدؒ سے منتقل ہوتی ہوئی محمد بن ادریس شافعیؒ کے پاس آتی ہے (شافعیؒ کے دورِ اول کے لحاظ سے)۔ دبستانِ عراق جس کی گدی علیؓ بن ابی طالب و ابن مسعودؓ سے ہوتی ہوئی، اور پھر علقمہ بن قیسؒ اور قاضی شریحؒ سے ہوتی ہوئی، اور آگے ابراہیم نخعیؒ اور پھر حماد بن سلیمانؒ سے منتقل ہوتی ہوئی ابو حنیفہ النعمانؒ کے پاس آتی ہے۔ دبستانِ مصرجس کی گدی عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے ہوتی ہوئی، اور بعد ازاں یزید بن حبیبؒ، اور بعد ازاں لیث بن سعدؒ وغیرہ سے منتقل ہوتی ہوئی محمد بن ادریس شافعیؒ کو ملی (شافعیؒ کے دور دوئم کے لحاظ سے)۔

الله پاک سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائیں. آمین.

Monday, 13 March 2017

السلام علیکم

الحمد للہ رب العالمین و الصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم و علی آلہ و اصحابہ و الصدیقین و الشھداء والصالحین والعاقبۃ للمتقین۔
اما بعد فأعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلَّا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ۔ (آل عمران 3:19)
Lo! religion with Allah (is) the Surrender (to His Will and Guidance). Those who (formerly) received the Scripture differed only after knowledge came unto them, through transgression among themselves. Whoso disbelieveth the revelations of Allah (will find that) lo! Allah is swift at reckoning.    
اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے، جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا اور جو کوئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ہے۔
قارئین کرام۔ السلام علیکم۔
اللہ پاک نے اس دنیا کو پیدا فرمایا، پھر اس میں زندگی گزارنے کے لیے دین اسلام کو منتخب فرمایا، زندگی کے ہر شعبے سے متعلق راہنمائی مہیا کی اور تمام انسانوں کی فلاح اسی دین پر حسب توفیق عمل کرنے میں رکھ دی۔ دین اسلام کا اپنی زندگی پر نفاذ اور اس کا پیغام سب تک پہنچانا ہر مومن کی ذمہ داری ہے۔
المیہ یہ ہے کہ آج مسلمان کفار کی محنت اور مسلمانوں کی  غفلت کے باعث ایمان کی اس قیمتی متاع حیات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ اکثر مسلمانوں کے اذہان میں زندگی کا مقصد ہی واضح نہیں نتیجتاً اکثریت دنیا کے پیچھے لگ کر اس اور کی رنگینیوں میں سکون کی متلاشی ہے۔ جس سے نہ تو سکون ملتا ہے، نہ زندگی کا مقصد حاصل ہو پاتا ہے اور بالآخر شیطان کے چنگل میں پھنس کر اور آخرت کی بربادی کا سامان لے کر کسمپرسی کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔
اللہ پاک کے فضل و کرم اور توفیق سے آج مورخہ 13 مارچ 2017 بروز سوموار یہ بلاگ شروع کیا جا رہا ہے۔ ارادہ ہے کہ عامۃ الناس اور مسلمانوں کے لیے قرآن کریم کی آیات، احادیث مبارکہ اور دین اسلام کی روشنی میں زندگی کی حقیقت اور اس کے مختلف شعبوں سے متعلق راہنمائی پر مشتمل اہل علم کے منتخب اور اصلاحی مضامین، نقلی اور عقلی دلائل کے ساتھ مہیا کیے جائیں تاکہ زندگی کی حقیقت سمجھنے سمجھانے میں آسانی ہو، ایمان مضبوط ہو، زندگی اللہ پاک کے بتائے طریقوں کے مطابق گزارنے کی تحریک، راہنمائی اور حوصلہ حاصل ہوتا رہے۔ نتیجتاً سکون قلب اور ایمان  کے ساتھ خاتمہ نصیب ہو۔
اللہ پاک مجھے اور سب کو سمجھنے اور عمل کی توفیق عطا فرمائیں اور اس کام کو ہمارے لیے صدقہ جاریہ بنائیں۔ آمین۔